Skip to main content

Full text of "Jadeed Europe ka Erteqaa aur Islam par Jadeed Mutaaliaat ka Aagaaz"

See other formats


7 مہ افغفاق ام دی 
10007-40667 


راف پش بی سے طؾن و اط لکی مکش رجی مے اور ہردور میں نکو باضل کے تی رو ںکانشانہ ہنی اے لان جار گواد ےکہ اس شع اسلا مکوگل 
کرئے والی زار و لئ ضا ا شی اددکار دانع ع کی ان ناک ڈیڈ ےکی ہزارو ںکومششیں ہیں لین ہ رطوفان اس لان ےگ راک راپڈا بھی رینپ 
جبور ہوگیا۔ اسلا می تار نے ووید تین دن ھی دریکھا٘س دن اسسلام کے ھت قد کور وک ے کے لے دا الد وی ںآخ یر سولل سے یکا منصوی, بنائ/ 


٭٭ 


لکن ید ائی افو نکی و فیات ان ن گے لئ رحس میں قرآن کم یس ا کا اون مہ بتایاگیاے- جاءا نی و زجحصن الما ل انال پا ض۰ ل کان ز۶ ۴۔اس 
کے لد ید ینہ کے پیپودومڑا ٹین نے اشاعت اسلام کے رات ٹیس بند باند ھن یمک گی ان گنن پیل کے لے ہ یکر وار ضی پر جلواگر 
ہوا ارم یلتای را ونیک صدربی سے کھ یکم عرصہ میں اس نے دجیاکے دوہ را عنکموں الیاواغر یت ہکواپنازی میں بنلیاور برا عنم ورپ کے دروازوں 
پردکک دیاثر 0۰0980 اکر ۷پودیت وٹھ ‏ انبیت م لک اسسلام کے رات میں اعم ہو ئے لان گل تا نکا مقر تی٠‏ چنانچہ مبیرا نکارزار 
فیس ات نکی پت ا نہیں نے گر زور تل مکاسہارالیااوراسلام کی ول کرس ےتید تا کے مات خٹ کیا ۔ ای شی ال نے کے 


لے ابو نے ابقیار بص رج اور ححتقیقا تک یڑ میس سیر ھے سادے اسلا مکو اسیک خو شغاز ہر ہناد اض سکاپلکاسااشر بھی ایک مسلما کو اس کے دن پر باقی نہ 
عیرے لن اس میدان ٹل تھی ا نکا متقابلہ لیے سرفرشوں ے ہہو اج نپوں نے الس زہر کے لے تر اتی مطلائ شک لیا۔ او راس با ر بھی یلست ان 
کامقدرقرار پا ئی۔اس عفظرسے مفانے یس چم جدید اورپ کے عرون دا نقاءادر اس کے اسباب دوجو بات او پچ اسسلا مکی شی ہکو کر دی ےکی جھ 
1 یں موکیں اسر چھراوررو ار ا رر گ۔ 


تار ورپ کے اووار 


آنٹھومیں صہدری یل سک کے بعد جار زور پکو خی ن ادوار یں تن ہی مکیاجاے۔ 


۔دور قد م:۔جھآٹھویسں صدکی فل کے پانچو سی صدی میسو یکک پیا ہو اہے۔ بجی دوزمانرے جب روم کی لیم لطعت تقائم ہو کی تی اور 1 


چپ نان سے علوم ومعارف کے ور یاہہہ لے جے 


و و :بی دہزماندے جوزوال رومہ476ء سے شر و ہ کور پکی نغا اش مجن سواہبویسں صدیی عیسدی پر تح ہوتا ہے 2 


7 ۔دورجدیر:۔ چو سواہویں صمدرکی میس وک سے ش رو ہو اے 3 


رون وسممی می پور پک اغلاقی ‏ ما شی ء معاش اور عھی حالت 


کے دونوں طر فکا تح ھآپادر تے, موجودہ منص٥1)‏ تار بات ےکہ رورپ ملف و ضنی قائت لاکن تھا۔ کی ر٤اسود‏ کے شی اور در یائے ڈن یر 


لینەردماتءاورہنگری وغیر کے متام پر جنخزرج تہ جرمنی مین خخوا رق کل یجنی یڈ لزہ سیسزز اوران زاون فا ذ انس میں فراکک اور بر طاشے 


رت تے اور ہاقی تحموں بی بھی اجیڑ تام لآبادتھے۔ج کہ صصد بیو ںکک وحشت وب بر بیت اور تد بنہ جہاات یل ڈو بے ( )0٢‏ ہیں سلٹ 


ہوۓ تہ تقہذریب وا خلا قیکاکوگی تصور بی نہیں تو 


ڈاکٹرڈر پر (1882ء)کیتت ہی ںکہ قرون و سم میس پور پکابیشن زحصہ لق دق بیااں یا را جلگل تھا کمیں کی راہیو کی خانقاویں اور جو ٹیوٹ 
یستیا ںآپاد یں جاہادل لی اور غلیناج ہڑ تھے لقن اور چرس شی شہروں میں کڑی کے ایے مکانات جے شی کی یں ھا کی ال 
امراءف رخ گھاس بات او جیٹس کے سبینگ میں شراب ڈال کر نے تتے۔صفاٹ یکا کو اتظام یں تھا ہکلیوں میں فظطہ کے ڈعی کے رت جے 
او کو اتظام نیس تھا عوام یک پیل اس سالہاسا لیک مھ ا ا یں تھے متیہ ودتھ کین میلااور بد بودار ہو چاتاتھا 


فتتردفاقہکا ہہ عالم خھاکہ لوگ سز یاں+ پت اور در ختز کی پچھایس ابا لک رکھا لیے تے۔ متوسما طبقہ کے یہاں غتے شیل یک رحب ہگوشت عیا شی مھا جانا 
تھا۔ ہ بپی طور پر عیسائی تکاخلبہ تھا چنا نچ ان کے پاد ری فر یب اور جعلسازکیےکام لے تے۔ وپ جن تگیار اہدار کی او رگنا ہک رن ےکی پر مٹ(اجازت 


5 از نکر تی ملا انت اسیک تا انت او ز فا و کی کن ین یئن وو ٤ے‏ 


دوس ربی طرف ساتو یں دی میس دی میں اسسلام رز ین عرب می ںآیانعریو ںکو عم وخ ر ہم ال گی جس کے ذریجہاخہوں نے مت مۓ علوم وفنون 
سے وم اکومتعار فکرایا۔ فن حا تکاسللہ بھی بڑھااور مسلمان الیجیاے نل اک راف يیقہ اور مرو رپ مل دا خحل ہو گُۓ اورا ت7 ا نے رود 
کک پہو پچ سگئے۔ اوران میں مسلرافو ںکی ایک انار علومت تقائم ہوگئی_ ہہ علومت بہت جلدعلم وف نک رکز نگئی_ صنعت وت فت ,ارت د 

معیشت ٹیس د مکی ت ثی بافنۃ قوموں سے نظری ملان ےگی۔ دوس رے عماکک سے لوگ جوق در جوق ع مکی علاش ٹیل وہا ںآنے گے چنا مچہ ج رٹ دی 


پہلا فیس جی نے خفیہ ویر ان رس جا اک رعلوم اسلا می عا صصل٣اوراخجیز‏ اور آرطہ کے اسائزہ 2 (ء٥ن[ہہ>0 )1600:٥٥ 1١‏ اور پک 
- 0 ۹ی" 1,۳" برا سکوسلوسٹرووم(999وے_ 003 1 ۶ کے نام سے روم ک ےکی اکا پوپ مخ بکیاگیا 


ڈاکرمصفی بات یککھ ہی ںکہ اس کے بعد مخرب کے وج ر فلا ءاورایل عم ان راس گے اور وہاں مسلمانوں اور عرہوں سے عاوم وفنون سے استتفاد ہکیااور 
“ وا اکر اپنے اپنے ومن ٹیل اسلائی تیب و شاف تکی اشاع تکاء ع بیز با نکی نعلیعم سے ببہت سے ادارے تائم کے 


٥طت 1٥‏ 006۴0۲1) طبطد ے استف| مم رپریڑ لے بض۶ اکب کالائی ز بان می تج ہگیا۔ا 1 نزاد تق ارڈدگیکریەون 
1187ء نے طلیط ہکاسف کیا دہاں حر ز بان بھی اوراپنے ون والی اکر فلفہ ؛طبء فلکیات اورومگر مو ضوعا تپ 87کابوں11144) 


وی کات 


بی سب اف راو صلھ یککاوشیں تھی ںکی وک ہکلیسانے مج سکیا بکک لاد ستی قائم تھی اور علم پر ا سکاقضہ فاعام طور یر علم حاصم لک رن ےکاجازت نیل 
دئی شی بچی نی بلنہ توددائل علم پاپاوں اور پادریوں کے عم ود شمن یک وجہ سے موت کےگحاٹہاردسیے گے ۔کو پر خیک(1473ء 1543 میلو 
. کیل( 1564ء 1642ء)ا کی زندەشال ہیں 


لان صلی جنگوں میں کات اش کے بعد لوگ خ مکی وصیت کے مطابق من پادرایوں نے پاپائے اض سے ملائقا تک اوران کے سا نے مسلرانو ںکو 

زی رکرنےاورا نکوعگست دینے کے لیے لوگی غ مکافار مولہ ین لکیاجس میں اس نے مشور ود ا کہ جھنک کے ہائۓ صعلم کے رات ےکواخقیا ہک یاجائے اور 
مسلمانو ںکی طاقت اوران کے جز بے انار وقر بای کے اسباب و عو اگ لکا ہین لگا یا جا اور کچھ را نکی قوت دطاقت کے م رجش ہکوخ تی کک دیا 

جائے۔ چنانچہ ان پادر لیو نے یڑپ کے سان بے وین ھی اک ہکلیاعلم حا لکن ےکی عاماحجازت دے اود اس کے لئ ادارے ما مککرمے او راس 


کے ذر یہ یس ای تکیا لیخ داشاعع تک جائے۔ 


بی منحموبہ ٹپ يکمرنے والوں یل سم لا ا رو رھ رو 3ء ئیں و یازا ک ےکی انے علم حا صل اگرنے تصوصااسلائی 


علوم وفنون اور عم بی ز بان سکجنے کی اجازت دیرگی اور فور کی طور یر اس مقصر کے لے بی رس اکسفورڈء و لینڑ کے تغ و عم راز بانع دادب اور 
مشرقی علوم کے شیے کے گے اور حر یکاہوں کے اگ یی ز بن ٹڈ تر جمہہہوے۔ ایک حقی کے مطا بن پندرہوں صیدری عیسو یکک تق ربا جار سو 
کتاڈیں ع بی سے اع یززکی اور وی ز باوں شش از تقر یباچھ صمدبیو ںکک عربو ںک یکتتائیں بورپی بونیور سٹیوں میں نصا بک بفیادر ہیں اور 
اورپ ا نکاپنا ھی آوز تار 


:دورجر یکا لوڈرپ 


پندرہوسیں صری میس شطنطزہ کے سقوما(1453ء)اورو بانا کے سرع دکک عثال فو جوں کے ہو نے کے بععد جم نے ایور پک چو یس ہلاد یں اور جس 
سے ائل بپورپ کے صحمول عم رجان میں مزید یز یآ اور دوس ری الیک وجب بھی رہ یکہ صٹڑبی جنگوں میں کان زاون ا کان 
مسارانوں سے مصالیانہ تل جو ل کا نغییہ ور پکی وا کی شکل میں ظاہرہوا۔ 


مسیولیٹ ریت ہی ںکہ اگرتار نیس عرب منص شبوریرخمودارنہ ہوتے وعلومم وفنون اور تیفریب و تجرن من اور پک بی اد کی ص کی اور مو 
ہومالی_“ ہرلولٹ اپ یکتاب ”* اتکی ا می سککعت ہیں کہ جدیدرد نار عر بی تہذی بکاسب سے ذااضصان لم سے لیکن اس کے مار بعدرمیں 
رونماہویۓے۔ یں 6 ا کین یس ع بی تہذی بکو مخ دیادداسیک طو بل وقت گزارنے کے بعد اپنے شباب کو پہو یا اور تھا عم ىینے لورپ 
کوحیات نوخ کی بلہ اسلائی تذریب کے اور بھی ۷بت سے م وش ا تار فر مات نجس اسلاٹی تذریب نے اپنے ف نکی من یکر میں پور پ پر ڈایٹل ءلورپ 
پک ت رٹ یکاکوٹ یگوشہ ایا نی ے جواسلائی تیذیب سے مار ہو اغیررہگیاہو۔ 


ورپ نے مسلمافوں سے عم سیکھا۔ تیب وترن مھھی اور نظری یز ادی حا لکیااور مسلرانوں سے تج بی علوم حا صل کے اوران پر اپقی شا ۃتام یکا 
ان 


رون :و سم کے متام ے میس جدیدردور کے ذ ہنی رک ڈ ھن ککاآنغازا گی ٹس ہو نے دالی تج کیک سے ہوا جے شا پچطاشی سے ہ!یں۔ ابترامء ٹیش چند لوگ اس 
طرں‌ک نظریہ رت تھے نجس میں خائص طورپرپٹرار کک زا مآتاسے لن پندر ہو کی دک می یہ تح یک اذ وقیء باادب د خیاداراوردین داردونوں مم 
کے اطالوی باشنعد و يک ایک بڑگی تد اوٹش کیل کر 


فور ٹس د ناک بہت تہذریب یافند ش رہونے کے علاد دشا قچٹاش کاٹ ہون ےکی وجہ سے ببھیااہم تر ین مھ جات اہے۔ادی دخاکے تقر یاقمام بڑے اد با 


2 اور نیاۓ فی کے ابم تین اور نا مورلوگو ںکامعلق مور ٹس سے تھا 


تیر ہویں صریٹیں فلوریس میں جن ط ات سے علق رکنے وانے لوگ رت جے۔ اش رافیہ (دولت منداود جاگبردار)امی کیب رتچار(ہور ڈوا)اوراونٰ 
لوگو ں کا طیقہ_ے سب ابی مفادات کے لے ہام دست گر یہاں تے ء ان میس سے اش رافیہ کے لوگ بمیاد کی ور پاپ کے خلاف ش ہنشاہکی حما بت جے 


۰ 


ج بکہ دوسرے طبقوں کے لوگ ش مشاہ کے خلاف لو پک حمای تکرر ہے تے۔ان میس اول ال کر طبقہ علست سے ددچیار ہوااور چو د ہو یں صدکی شن 
ادٹی طبقہ کے لوگوں نے بھی بور ٹوا بے سے ایق جان مھٹرالی- 


نپا یکادورفلن میس حاص لک یگ کسی مڑ یکا میا ییادو رٹنیس تھا لیکن اس کے ناک کے طور پر جو بن مت ہیس صمدیی ٹیس ہہوسیس دہ ڑکیا بی تکا 
حعائل تعھی۔ الس نے افلا ون کے مطالعہکااز سر واج کیا ۔آزرادکی را او لک کیآئرادیی پر وان چا جا چناضچہ نف خاش کے نیہ میں انمانوں نے متقول 


انرازسے سو چنا شرو خکیاادر دم دورسے چک یآردی لخویاتکی بات الع کے افکار و خیالات مل وسعت لظظری پبداہوئی- 


اسی رح الات عالات دداقعات کے دائ وکار سے پاہرخشاپچتاہ ہی خویو ںکی حائل ھی فن تق رات, فن مصورىی, شا ع رک اور وم رعلوم وفنو نکواس 
دور ین ہڑئی تر قی حاصمل ہوکیہ ع بی و عبرالیز بان سی کاعام ر واج ہوا۔ مش یں نے ادارے اور اسکول مقائم گے ۔اس دور میں بڑے بڑے سی اور 
2 ال علم پیداہہوۓ جیس ےلیو زاڈوہ اتیل ؛اجنیاواور میکادی و خی را نے پڑ ھےک انسافنو ںکوقرون و سعھی کے تنگ دا رکیک تن سےآزراد ید لا کی 


صتتیاقلاب 


نشاچطائہ کے مت کے طور پر ورپ می علوم وفنو نکاعام ر واج ہوگیا۔ طب ء فلیات ءاور سائنس ور یا شی کے ع ر کب کے تراجم انکر ببزکی و مر 

تگال ئوہ گی وپ2 ف ان علوم وفو نپامظہر مات آنابائی تھاجھانٹھار ہو ریس صد کی کےآخ کے پپچاس سال معدت مل ہطاعرٹش 
تصضعیا نقلا بکی شکل یس رو نماہوااور پھر انٹیسویں صدبی کے اینلرائوٹش گی زی کے ساتھ باقی ورپ میں پچھیلتا چ گیا فراسہ ج می ءا ہآسٹریاور 
رس وق ایت اف1 ےن کے ہز ک مان نو فکی کم فینون نے ےلین کیا نف اود ھا نکی تس بنا ےکی نان او اشن 


بنانے میں مۓۓے متۓ ابججادات ہو نے گے۔ 


یل پھاپ سے سے دالی رب یگاڑ یکا اد سان ال اوہ تم عرصہ می ا سکوخوب ت تی ھی صرف 1850ء ے 1870 کک ایک 1829 
71ز لت ای سار ےک ےن کی کن کن کت یس ےکن ان ضز اوران ڑی 


ہولع مس رآ اوریر ون عمالک سے تیارکی روابطا بڑتے۔ایٹد نکیا تک میں مےااضافہ ہوا تر یب تر یب ای زمانے یں دغانی چا زی ابیاد کے 


پا حعتث ذد اح تل و تل میس ایک اور انقلاب دو نماہوااور بے بڑے سمنرر جو 000-07 میں ڑگر وکاوٹ بن ہو ئے تے الس می ںآساخیال پیدا 


۔ ہوگیں 


صفنحت و ف تکاس قدر تر تی نے پوارے اور پکانقتشہ ی بد لک رکددیاہ چنا یہ می و عثرت کے ساما نکی فراوانی و ہوگی لیکن جار فی من یال ماندیڈ 


7 
0 


گگیں۔ چنا مجر س رما داد کے اس جیزرفیار تر تی اور پور ڈواطیے کے مڑ ھت ہوے قدم کے باعت نو بد اق ذس کی ایک ا راز ہوا۔ پور ڑواکوغام 


اشیاءادر ستے وس اتل اور نی منڈیو ںکی ضرورت سو ہ وکا ورای ضرور کو پور یکر نے کے لے پوآباد انی ظا مکی ابنقراء ہو کی اوران و سخ پبند 

موں میس بر طاشیہ صف اول پھ تھ۔ ال نے برماہ جن وستان ۱ ین پر اپناتسلط ہمالیا۔ ہند وستان می سکپڑ ےکی صنح تکوتباددبر بادکمر کے اپنے تار قی منڑی 

کی ورپ ا سکااستعا لکمااور ین سے افیون سستی قمتوں میس خی رد رآ کر ناشر و کان او شک نت اگ ن کوک او اض وک ماخ ےمان 

سے ھی سر اس ےکواٹھاک رورپ من لکرد گیا مندوستا نکی مصکرت اور فار یز بان میس موجود تھا مکاڈیں ہڑگیاہمیت کے حائل >8 ھئ0192( 
2 *اوراسلا ھی علوم وفتون ے ملق یکتا ہی ںآرعلدرن کے کنب خانوں یزیت بن ہوک ہیں 


دو ری طرف فراشن نے ایر مصراوردجگرافر لی مالک پ رق کر لیااوروہال کے صححت منداور تتدرست مردوخوا تی نک وگ فیا رک کے خلام بنالیا۔ اور 
ورپ مل انمائوں کی خیدوفر وختعام ہوثی ہی اوفمروے نین مل چالوروں اکا طر کام لمیاجاتا تھا ادر ایک زمان تک افر ٹی ملا مو ںکو 

ام ربا اورام مکی فلا موں ورپ مل مرن ےکاسلسلہ جا گید با اس کے بد ز دال نز بر اتی نکی طرف نگاہیں ا کووس ان ان لپڑی 
۔ متقمد دافو اج نے ا بین پ ہحمل کر کے اسے بھی تبادو بر بلدکردیااوردہاں ک ےک ناو ںکوفرٴنس غتق لکرد پا 


٭٭ 


دوسریی طرف منانقلا بک وج ے وولت اور ڑواطٹقہ مل مد ودہ دکرر وگیاتھاادر ادثی طبقہابقی زمینوں سے بے دخل ہدک شیکیشربیوں می کا مر نے 
پر مور ے۔ اس لے سیا یدارا نع مزدورو ںگی بی بے ر تی سے ا تصا لکررے تھے ۔کرس ےک وقت می دومزدورو ںکو نچ ڑکر زیاددے زیادہ 
سے وا رج ا ری رر اے8 ان کام لیے تے عورنوں اور یو ںکی عحن تکا وس پان پر استعال 


کیاجاماتھاجآمانی سے سست قمتوں میس مل جات تھے مزددروں کے اس بے اٹتچاا سختصال سے ان کے جسماٹی ماگ ا زگ روعانی عو لکا خر ض ولا جن 
۔ وگیاتھااور اس طط رح اگ ردارانہلظام کے بعد صرمارہ دارانہ نظام ا سکی حگ یہ مقائئش ہوگیاتھا 


پوارپ مل اسلامپ جدید مطالعہکاآفاز 


ایک طرف اسلائی تیب وتران اورعلوم وفون اور مسلران علاءو ملک بن کے بد ولت ورپ میں سو چینے اور ور وگکراور ھی مییران ئی لآگے ہڑ عۓک 
شوق بیدار ہواتھا جم سکی وجہ سے پاپائیت اور ملوکیت کے رد مل میس س ول رازم چھ رجاگ ردارانہنظام کے خلاف پیل ازم اور خودٹپٹل ازم کے غراف 
اشترالیت یس نظ ریت بے بعد دکجر ساس ےآر سے جے 


دوسریی طرف یک تق ماف قوم کے علوم وفنونء تبذیب شاف تکوا پناک اتی تر ثیکی راہیں چو رک رن ےک یکو ش شی د سومیں دی یا بھی پپیلے سے 
ش روہ وگئی ھی اوراس وقت ان کے بث وق نک مقصدد نا لف لی ومحروضی جوا 


موا :او ںی مو یککۓ یں * اسلا ھی علوم وفو نکی الس علھی بٹ وحقی نکاآنازوسویں صدری عیسو ی میں ہوارہجحقی نکر وانے مستش رقین معروضی 
٤‏ اور توق ای ا رو رك زان کح ان حپ ساط می 


روٹم خلبق اص نطاب یککت ہیں کہ اسعلام اور اس کے تفہ سپ یکھار ناموں سے وا زیت حاصص لکرن کاجز یہ مرب می اس دقت بیبراد ہوا تھاجب اہین اور 
کا ماس ز لن پہ عمرلوں نے قد مر رکھانتھا۔ ریہ صمرف ایک ملک باایک وو 2 تھی بکہ تہذیب وتمرن اورعلوم وخنون کے یک نے اور انقلاب 
فی دورکآناز جس نے بقول فر انی مستشرق پروفیس ری نیون تی اتتبار سے اور پکو بیدا رکیااور مغرب کے تر قی کے لے سے سے 
امکانات پبیداکردئے۔ عرپوں کے علوم وفتون ا نے ای ص ربلند یکیارازدر بالف کر کاجذ یہ الس جا تکا ت رک ہ اک اسلا مکا کَ 


“ مطالع ہکیاجائۓے۔ ع ہو ںکی خی حقیقات نۓ تلھی تج بات اور نے ملحی ر ججانات سے اورپ کے عام استفادوکر نا جات تے۔ 


نان یور پکاشاہرا وت قی پر پہلا قدم تاج پہ قد مم رکھت ہیا نے معھیدنیکی سر برای کاراز پالیاا ور اس کے بعد وو شی الشان عھ یکار نے امیام 
دۓ جہنوںۓ ا سکوعکھی فضیل تٹکی صف اول میس بپہومچادیا۔ اب مس لم مافک ذوال پز یر تھے اود ورپ ز لن سے ش یاکی طرف اپنے ھی ء ساس ءاور 


ی زی خی می میس مروف اوران مین سنانف وا کات ےک ڑےےالکھاڑزد ےک یکوشین ینہک یتین 


لارنس براؤو ن کے ہی ںکہ پیل ہم یبد دی خطرے سے ڈرتے تھے ءزدد خخطرے(جاپانء ین سے ڈرتے تے اور اشن زاکیت ے ڈارتے تے لان ہے 

خیال خلطاشابت ہواءاس لے کہ یہد گی جمارے دوست لے ہچنانچ لن یہ 2 ممرنے والاہمار اجائید شی کا پچھردوسرىی یک میم کے دوران اش ای 

ہارے علیف بن رےءرہازردخطر(جاپانء ین )نواس ضٹنے کے لگ ہڑی جو ری کو می ںکانی ہیں۔ اب اصل خطر:نظام اسلائی اور اس کے زنر وو 

جادید مر ہب ہو ےکی حیشیت سے اپنے علق تم نکو وس کر لی ےکی غی ر مممولی ققررت وصلاحیت سے ہے مسلمانز بر دست ‏ تیر ت انکیٹ حیات 
۔“ یش طاقت و قوت کے مالک بیں۔ بای سام راج کے رات یں سب سے ڑکیا رکاوٹ تیامکچی (اسللام سے 


ایک دوسرے مف لیر ہنمائکئچ ہی ںکہ میرے خیال یس کیو غزم ورپ کے ل ۓےکوکی خطرہنڑیں ے بللہ تفیقی خطرداسلام سے سے ھپ مکوبراود ات 
یہ رپاے۔ مسلماان جار یا مض رید ٹیا سے الک ان ایک تل د نیا رھت ہیں۔ ان کے پااس الع دو عالی مس رمای سے اود دوایک یق ی ہی اورتار نی 
0 تیب وتمران کے مالک ہیں۔ مسلمانوں میں ا لک صلاحیت داہلیت ےکہ دہ اخ سی تتناون ومدد کے ایک ناد ناکی بفیاد رکہ سے ہیں 


ا وورے ہی نع اسلام او راسلا ھی تہذیب کو اپنر اس کیا سب سے ڑکیا رکیاوٹ یت جے۔ اسلام اور مسلمانو ںکی ہجار نے واقلیت اور اسلام 
کے دوبارونیالب ہونے کے خحوف نے ممتتش رین کے ذ ہن ٹیس مہ جذبہ پداکردیاکہ ای وسائل افخقیار سک ای کہ جن سے یہ خطرونضس سے اورپ 
ایک جار سال تک دو چیارر ہا دائول نہآئے۔ اس لے اب ان کے مطاے اور می نکیا غ بی بر لگیا۔ 


مول شی اس وور کے مستش رق نکی علھی چو ںکاذک کرت ہو ےکھت ہی ںکہ لور پکی فیا د اد شک کے قابگ ہےکہ ایک طرف فو بی 
اختافات کی بنابہ مسلمانوں کے خنو نک پیاس تھا کان ٹر کی رف انی نے ہے مکلف مسسلمانوں کے خوان ارم سے لد بالاشر وراکردی نس 


فیاضی کا تتلق غی رز بی لٹ ریچ رے تھاجہاں کک ہزرہ بک اتعلق ے وصلدی جنگوں سے بو رش رقین کے طرزگکردوراندا شقن میس بزیادکی تید ارونما 
“٦‏ وگئی۔ اب اسلا مکی تھلیمات او رمق اسلا مکی حیات یب اود اسلاٹی تی بکاکوک یکو شہ السا نید ہاتھاج ان کے متحصبانہاذکا کی زد میس نہاگیاہو 


تی رہویں صیدکی کے آخر میں مسر ین اك کی کا ناونع حا صل ہو گیااور ا بکلیسانے | یں اسلا می علوم وفون پر مواوفر ام کر ان ےکیاذ مد دا گی اپنے سر 
لےےی۔ 


مولا زا وش ند و یھت ہی ںکہ ” خودو پ کن میس مشرقی علوم وب اہب پ “شف لک اہو ںکای ککتب خانہ ا مک یاگیا۔ اور سواہ یں صدئی عیسو یش اس 
یں را 7ن وت ان سے تن کے کن ا 2 کل 


کلیساکایہ تتاون اس راءکاسگک مل ایت ہواچناف کلیسانے فرانس ءر وس ء ام بل اورومیگر مفرپی ملکوں کے نشی ادار ول اور یو زور سٹیوں میں الاک 


اسر یڑ کے عنوان سے سفٹر قائم ے۶ یکنا بوں کے انگ یزکیز بان میس تر تے ہوے اور نما طورپررازگیءزہر گی ءابن رش ءائن یناور در ۶ 
۔ فلاسف رک یکنائیں !گر ببزیز ان میں شف ہوئیں 


ا ے بعر تنم انقاب نے پور لی مم ایک ٹیس استمار اور مل کگی رک یکی خی خاہشا تکو برا کر دبا جس کے تفہ میس اہول نے د یاکے ببہت سارے 

مالک پر اق نوآبادیات تام ۶۲پ ي۷ کر رٹ ا مرن گے ء وہاں کے نام اشاپ قبضہ رکم لااو عوام پہ ظ, ت رد کے پہاڑ 

رت روغ 3ن ترکو سی ٹک رورپ ٹف کر ن ےکا منصوبہ بنا اگیا۔ اور مت ہو میں دی عیسو یش 
اس پر شل درآ دم شروں ہوگیا۔ 


پر وفیس رخلیقی اھ ظا یکین ہی ںکہ ” اکسغورڈ کے ع رپیپ وفیس رایڈدرڈلی اک نے حلب سے ع ری مخطوطیات کے شی بہاؤ خیرے حا صصل گ۱ے۔ ای 
ا از ان کے رن 270 کر کان لیا۔ اور لی ز بان شی قرآن تید بے پہلا کات جمہ تھا نی لین نے 1798ء کے بعد مص سے 


اوت و ںکوفرانس مت لکرناشش رو خحکردیااور اگربزول نے 1757ء کے بعد مندوستان کے اور لی نے لنرن پہو ماد یے۔انڑہ نیشیاءہندوستان 


“ ءابیرانء مر شظام اور عم اق کے کت بی اضمول موئی ج نکوغی رملھوں میس دج کر بنقول اقال ” دلىی ار“ ہوتاے 


رجب نوآباد رای نظام ےآرادی کی تر یی ش روغ وک فو وین ےےل او نکی کاو ان لوم :ول نا مکی نان لے 

دوات بر طاشی ےے ایی وآبادیوں سے دست بردار ہونے میں ںوی نی ںکیا۔ لین اس دور بی حالات بدل گے تھے اس لے اب سیائی ہرتری قائم 

رن کے لے ضرودری تاکہ بظاہرابقی اندازشخ یں احترام کے پچ ھکومھو ظا خاطررکھاسجائے۔ اس سیاسی متقصی ہکی حمولمال یکی اط رمنش رفین کے انداز 
_ ششخب کے رغ میس بھی بد لا اگیاا در اب ان کے تحصب می بھی ھن ای 


پر وفیسر نظائ یکین ہی ںکہ اس دور کے مستش فی نکی تفت یکاوشوں میس رتک اترام گیا اقبال نے 1932 یس جب پروفیس رجھی نیون سےکراکہ مخرب 
کے مو خی نمکواسلام سے ج وتحصب وعناد سے وووقت گزر نے کے سا تق کم ور پاہے اور اسلا مکی صدراقت النپرآشکار داور وا سج ہوثی جارجیٰے شی 


نون نے انی اکیار اپب ری طر سے الفا یکا 


نظ کی طرف ایے تو ںکونا مو شی کے ساتھ بیدا دکردی ےکی ت تجوشر وم ہگ جس سے مسلمان ممانک اف اتی انارک شکار بن ہیں اورٹی 
دعد تکیا ہہ پچھائیال مان کے ذ من ددما یہ نریڈ نے پاگیں۔اس دور کے من ر شین اپن ملگوں کے وزارت نار جہ کے می مر ان یئ انی 
ناک این طرف مفریی مو مو کی از جہ پالم یاکارغ مصحی نکر ن ےکی تو دو کی طرف اع علا ول یس خنیاا کی خی بی لانے کے گج وزارت 
ار ج ران متش رشن ے بدو لی ےگگی۔ اوردوسری ینک تیم کے جع دمتتش رین نے اسکابرورپورٹ ما کیا ج سکو کچ معوں میں مسننش رفی نا منشور 

کہا اسنا ےمج س کا متصدہی ىہ قماکہ بد لے ہو عالماتہہ گا رگ جا ور نہالیانہ ہ کہ الع بد لے ہو ئے عالا تکیوجہ پر طاند کی سام رای متقاص کو 
ہیر نتصان پہوۓے۔ چنانچہ اب مر طاعی نے امن عا مکاپہفر یب ھردبلن دکر ناش رو جکرد ی مہہ ا لک یآ یٹس دداپنن متقاص دکوبوبنہ پوراکر کے 

۔ لیکن عالاتث ےک وٹ لیاادد عم بی مالک میس یل کے خائردد یافف کر نے گئے۔ اب عرب مم مالک ہت سالوں میس یھ دز سے مالامالی ہونے وانے 
تے۔اس لئ اب صور تال تید یل وق ہو نظ رن گی جس سے مستنش رفی نکی پر بیائیاں مزیدبڑحھلگیں لین ان حالات پر تاب پانے کے لے ان 
کے تحقرقا تکام رکز اب اسلا ھی تح رییاتہ .گی رجانات ءا تماد یات دمعاشیات کے امکانات تقرار پائیں 


پر وفیسر نا یھت ہی ںکہ اب متتش فی نکد ہبی جدید غ ۰بی تم ات٠‏ گار جحانات اورا صا دی امکانات کے مطال کی طرف خنفل ہو کی ے او گر 
اعلائ کی توجیہ وتاویل سے ز یادہ مسلمان مگکوں کے اند ور وٹ اور ہیر وفیعالات کے تو زی ہکی طرف نوج ے۔ قومیت کے و عناص رج عربو ںکی وعرت گی 
کے تصصورا تکوپارہ پار کر سکتے یں ٢‏ اب نوج اع رکزہ نک اورایما وس ہوتا ےک صصوزت نے سر قین کے نا ز شقن ے نا موش ساز با زکرلیا 


3 


ٴ 


:ضنش رقین کے مطا لع او رتحقرقات کے مقاصر 


مصنننش رجین کے پیش نظران حقیقات اور مطااحات کے ذر یہ بہت سمارے متقاص رکو جا ص لکر ناٹھا جن میں سے اکٹرو یش میں انی کا میال ٹی 


ہے۔اسلام کے فا ظرمیس ا نکی تحقیقا تکا جا مز ولیا جا اس میس سب سے اچم مقد بی تواکہ مسلمانو ںکوا نکی تفہ ہی وت کی ور اوراہتا 2 


کے دی ششمعورے الیل ل٣‏ کرد یاجاۓ تاکن ان کے افکار وخیالات مل مخرحی تکی مچھلک نظ رآےءاورج ب بھی ودای تار یآ نظ ڈائیش فان کے ہی روز 
اور قانر بن مضرب کے ہی روزاوران کے لیا روں کے سرا نت ےنت نظ ئیں۔ اور اس ط رح سے وہ مخر بک بر اوران کے قیادت قجو لکرنے پر مور 
۔ ہو جائیںی 


مولا نان یھ ہی سکب مکو صرف بی ردنا نیش ہ ےکہ ہمارے زخدو کواورپ کے زندوں نے مخلو بکرلیاہے بلمہ بیردد ناجیہ ےک ہمارے مردول 


202 9 


مصقش رف نکادوس رام مقصدیہ را ےکہ اسلام کے دش اورتا,ناک پچ ر ہکس کر کے یی ںکیاجاے اور مسلمانوں کے دوں بی الن کے دی ءا نکی 
تیب دثافت اوران کے ماون وش ربعت کے سلسللے بیس ای 7یک اور یزار کی پداک دی جات کہ ددا نیش فر سودوخیا لکمرنے پر مور ہو جاکیں 
“ ۔بقول پر وفیسر نظلائی کے مسلمان سان سکی برتربی صلی مک کے م ہب ہیزار ہو چاتیں 


ان ے مطا لے ےکا تب ۷۳م مقصد یہ اک ا نکوف رد گی ماک می اپےے الھک رکھاجان ۓےکہ جس سے ان کے سوینےء من اور خور وگ کر نےکامادہباقی 
بی نہر رے۔اس مقصمد کے للا بوں نے می َء صحا کرام دصحابیات :تا لوان اور دجر علا و اسلام پر الزام تراشیاں شر و کر دہیں۔ سا تی ساتھ 
خرن عسسائیت وببوریت ے ماخ ذاور مر طبَِِقم کی تصنی کرد ہکتاب او رکنب احادییث اور اسماءالر جا لکو عہرعبا یکی خودت اید و تصنیذات ثاہت 
کر ےکی پھ رپا رکوشش ہوگی۔ بقول پر وفیس زطائ یک مسلمانوں کے ذ ہ نکوایے مات میس الچھاکر رکددیاجائۓ شش نان کے ھی زن گی سےکوگی 


تلق نز ہو لان جو قوانے ہن یک ومشح لکرنے می ںا رگرثابت ہوںن 


:یسوی صد یش ور 2 


اشبارات ور س اتل نظ رکنے وانے جات ہیں کہ امسلام اور مخرب 07 اش رح بھی جار کی ےء فی ٹین ےانداز تحت نر ضر ور بد لگیاے ان 

کے تحقیجات و مطالعا تکاسلملہ بنلد یس ہو اہے چنا مہ اٹچی مقاصرکی جحمولیالی کے لئ 9ا / تخب ر 2001 ءکوام اہ کے ولیڈر شی فٹ ری حمل ہکراگیااکہ 

اس کے ذر یہ افغاستان میں اسلا بی ععکوم تک ان والی گار یکوہچھاکر رکددیاجاتۓ نجس میں شاراغی کا میا یکم نقصائن زیادہہوااوراسی مقصد کے 

پیل کیا ال مرالبفقدادیکی قیادت میس اسلانک اسٹیٹ کے نام پر جو خولی ایل شر و داد گی ا یکا یک حصہ سے بے اع یلیہ اور در 

ور ٹن مان ککاتماون حا صل ہے۔اس کے ذد یہ اسسلام کے چپر ہکس حکمرنے اود اسلا مکی طرف مال ہونے والو ںکواس سے پیزا کر ن ےک یکول 
. کیاکئی جس میں انیس کا ئی ھی 


تار مو تیب عالم۔ مرجم امیر الدین لف حیدر ۔-1 


(۔اضسائیلوپیڑ تار نا عالم۔ یم ایل ینگ ر(مت جم مول نافلام ر سول م ر2 


.مل (0051۸153۸1) ۔ یور پک بیدار ی3 


( سر یآف وبیطرن فلا سفی۔ برٹرینڈ رسل( مت ریم : ذدکی ام (ز امہ سے ڈاوڈ ہو کک 4 


۔ اورپ پراسلا مکاا سان ڈاکٹر نلام جال ہی-5 


سار تّاورساست ۔ڈاٹ مارک می6 


۔ الم اسلام پر مخر بکاتسلط۔ مو لا اون ند وی 


۔ ورپ مسلمانو ںکی نظ ررمیں۔ مرجم :۔ مسعوراشع ر8 


'_][٦٥ ]0[:ءہ٢٠٣٢‎ ہ٠‎ ٣صک0م٭ ۔ہنرڑلیں‎ 


۔جدیر جابایت۔ ئ رقطب 9 


۔اسلام اور متقش ین سیر صا الد ین عپدالر “ن10 


-۔ضیاءا ای 2- کم شماہازہر |11 


علوم اسلا می او رمتقنش رشن مت جم ڈاکٹ شا ءال ند وی12 


۔ معرکہ سائنس وی ہب۔ر یر (مت جم مول نا ظف لی خان 13 


۔اسلام او رممتش رشن ڈاکٹرحافظط مزب ر14 


۔ رما دا گی اشت ریت اور اسسلام۔ مولا ولا عی مودودگی 5 1 


۔اسسلائی سیاست۔ مو لاناگوہر رتھ ن16